صحیح بخاری حدیث ۱۶۶۲ - عرفہ میں ظہر عصر جمع کرنا
عرفہ میں ظہر اور عصر جمع کرنا: سنت کی پیروی
صحیح بخاری : ۱۶۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۶۲
وَقَال اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ ؟ , فَقَالَ سَالِمٌ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : صَدَقَ ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ : أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَالِمٌ : وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ .
سالم روایت:
حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ میں اترا تو اس موقع پر اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے تھے؟ اس پر سالم رحمہ اللہ بولے کہ اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا، صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے۔ میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا؟ سالم نے فرمایا اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عرفہ کے دن نماز کے وقت کا اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں کیا کیا جائے۔ سالم رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر سنت پر چلنا چاہتے ہو تو نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کی تائید کی اور فرمایا کہ صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع عرفہ کی نماز، ظہر عصر جمع، حج کی سنت اور وقوف عرفات ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ حج کے عمل میں اصل راستہ سنت نبوی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھنا سنت سے ثابت عمل ہے۔
- حج کے معاملات میں صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کو معیار بناتے تھے۔
- صحیح علم رکھنے والے کی بات سننا دینی عمل میں مدد دیتا ہے۔
- نماز اور وقوف کے وقت میں سنت کی پیروی اہم ہے۔
