صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۰ - جمرہ تک تلبیہ پڑھنا
جمرہ عقبہ تک تلبیہ: لبیک کہنے کی سنت
صحیح بخاری : ۱۶۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۷۰
قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ الْفَضْلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ .
فضل روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر لبیک کہتے رہے تاآنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۰ کا خلاصہ
یہ مختصر مگر بہت اہم حدیث ہے۔ کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فضل رضی اللہ عنہ کے ذریعے خبر دی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ تک پہنچ گئے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تلبیہ، جمرہ عقبہ، رمی اور حج کا ذکر ہے۔ اس میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے جمرہ تک لبیک کہنا جاری رکھا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ حج میں لبیک اللہم لبیک کہنا اللہ کی طرف حاضری کا اعلان ہے، اور یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے اس کا وقت معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے۔
- حج کے عمل میں ذکر مسلسل جاری رہ سکتا ہے۔
- تلبیہ کا تعلق جمرہ تک پہنچنے کے عمل سے واضح ہوا۔
- حدیث مختصر ہے مگر حج کے ایک خاص عمل کو صاف بیان کرتی ہے۔
