صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۵ - مزدلفہ میں فجر کا وقت
مزدلفہ میں مغرب، عشاء اور فجر: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان
صحیح بخاری : ۱۶۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۷۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ حِينَ الْأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ فَتَعَشَّى ، ثُمَّ أَمَرَ أُرَى فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، قَالَ عَمْرٌو : لَا أَعْلَمُ الشَّكَّ إِلَّا مِنْ زُهَيْرٍ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ , قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا ، صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ ، وَالْفَجْرُ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ " , قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .
عبدالرحمٰن بن یزید روایت:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج کیا، آپ کے ساتھ تقریباً عشاء کی اذان کے وقت ہم مزدلفہ میں بھی آئے، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان اور تکبیر کہی اور آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت (سنت) اور پڑھی اور شام کا کھانا منگوا کر کھایا۔ میرا خیال ہے (راوی حدیث زہیر کا) کہ پھر آپ نے حکم دیا اور اس شخص نے اذان دی اور تکبیر کہی عمرو (راوی حدیث) نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ شک زہیر (عمرو کے شیخ) کو تھا، اس کے بعد عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی۔جب صبح صادق ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز (فجر) کو اس مقام اور اس دن کے سوا اور کبھی اس وقت (طلوع فجر ہوتے ہی) نہیں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صرف دو نمازیں (آج کے دن) اپنے معمولی وقت سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں تو مغرب کی نماز (عشاء کے ساتھ ملا کر) پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز طلوع فجر کے ساتھ ہی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حج کا واقعہ ہے۔ وہ مزدلفہ آئے تو مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھیں، کھانا کھایا، پھر عشاء دو رکعت پڑھی۔ صبح صادق ہوئی تو فرمایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم اس نماز کو اس جگہ اور اس دن کے سوا کبھی اس وقت نہیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دو نمازیں اپنے معمول کے وقت سے ہٹائی جاتی ہیں: مغرب، جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں، اور فجر، جب صبح ظاہر ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔ موضوع مزدلفہ نماز، فجر مزدلفہ اور حج کی سنت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں مغرب لوگوں کے پہنچنے کے بعد پڑھی گئی۔
- فجر کی نماز اس خاص دن طلوع فجر کے ساتھ پڑھی گئی۔
- ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کے مشاہدے سے جوڑا۔
- حج کے خاص موقع پر نماز کے وقت میں خاص ترتیب بیان ہوئی۔
