صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۳ - حج و عمرہ میں سنت کی پیروی

حج و عمرہ میں اتباع سنت: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۹۳

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لِأَبِيهِ : أَقِمْ فَإِنِّي لَا آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدّ عَنْ البيت ، قَالَ : إِذًا أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنَ الدَّارِ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَقَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ، ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْيَ مِنْ قُدَيْدٍ ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .

عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر روایت:

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا (جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ` میرا خیال ہے کہ (بدامنی کی وجہ سے) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو (ایسے موقعہ پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حج و عمرہ کے ساتھ اتباع سنت کا مضمون نمایاں ہے۔ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے نے انہیں کہا کہ آپ نہ جائیں، ممکن ہے بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیے جائیں، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ پھر میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ بھی دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ پھر انہوں نے عمرہ اپنے اوپر لازم کیا، احرام باندھا، بیداء پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا، قدید سے ہدی خریدی، مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا، اور دونوں سے اکٹھے حلال ہوئے۔ متن سے یہی سبق ملتا ہے کہ مشکل اندیشے میں بھی سنت کو معیار بنایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو نمونہ بنایا۔
  • رکاوٹ کے اندیشے کے باوجود انہوں نے واضح نیت اور احرام اختیار کیا۔
  • حدیث میں حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھنے کا ذکر ہے۔
  • ہدی خریدنے، طواف کرنے اور دونوں سے اکٹھے حلال ہونے کی بات آئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں