صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۲ - نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے تمتع کی روایت
نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا حج و عمرہ ساتھ کرنا: تمتع کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۶۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۹۲
وَعَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عائشہ روایت:
´عروہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کی خبر دی کہ` اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۹۲ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے، مگر حج تمتع کے موضوع سے جڑی ہوئی ہے۔ عروہ بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرہ ساتھ کرنے کی خبر دی۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح حج اور عمرہ ساتھ کیا۔ آخر میں راوی نے بتایا کہ یہ بات اسی طرح ہے جیسے سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ تمتع یعنی عمرہ کو حج کے ساتھ ادا کرنے کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ موجود لوگوں سے منقول ہے۔ اس میں کوئی اضافی تفصیل نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمتع کی خبر دی۔
- لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج اور عمرہ ساتھ کیا۔
- روایت میں سالم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خبر سے بھی تائید کا ذکر ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس کا مرکزی موضوع حج تمتع ہے۔
