صحیح بخاری حدیث ۱۷۰ - نبی صلى الله عليه وسلم کے بال مبارک سے محبت
نبی صلى الله عليه وسلم کے بال مبارک سے محبت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۰
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُبَيْدَةَ : عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ ، فَقَالَ : " لَأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
ابن سیرین روایت:
ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال (مبارک) ہیں، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ (یہ سن کر) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن سیرین نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال مبارک ہیں، جو انہیں انس رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ یہ سن کر عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ اس حدیث کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے آثار سے نسبت ہے۔ نبی کے بال مبارک، محبت رسول، اور صحابہ و تابعین کی عقیدت جیسے الفاظ اس روایت کے لیے اہم ہیں۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ محبت کا ایک صاف اور گہرا اظہار ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار بہت قیمتی سمجھا گیا۔
- عبیدہ رحمہ اللہ نے آپ کے ایک بال کو دنیا سے زیادہ عزیز کہا۔
- روایت میں انس رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں سے نسبت کا ذکر آیا ہے۔
