صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۴ - احرام و ہدی

احرام، طواف اور ہدی: حج میں سنت کی پیروی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۲۴

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ : أَحَجَجْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : بِمَا أَهْلَلْتَ ؟ قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ ، انْطَلِقْ فَطُفْ بالبيت وَبِالصَّفَا والمروة ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ ، فَقَالَ : إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ " .

ابوموسیٰ روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔چنانچہ (مکہ پہنچ کر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس بطحاء میں حاضر ہوئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے حج کی نیت کی ہے، پھر پوچھا کہ احرام کس چیز کا باندھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے احرام کی طرح۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا، پھر انہیں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس بات کا ذکر ہوا تو انہوں نے کتاب اللہ کے حکمِ اتمام اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سنت کا ذکر کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔ اس روایت کا موضوع احرام، ہدی، طواف اور سعی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حج کے عمل میں اپنی مرضی نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور سنت کو سامنے رکھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام کے بارے میں سوال کرنا اور رہنمائی لینا درست ہے۔
  • طواف بیت اللہ اور صفا مروہ کی سعی اس روایت میں واضح طور پر مذکور ہیں۔
  • حضرت عمرؓ نے کتاب اللہ اور سنت دونوں کی پیروی کا ذکر کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں