صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۵ - ہدی

ہدی ساتھ ہو تو احرام کب کھلے گا؟ حدیث کی آسان شرح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۲۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .

ابن عمر روایت:

حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں (اپنے ساتھ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا کہ لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم عمرہ کے بعد حلال کیوں نہیں ہوئے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں، اپنی قربانی کے گلے میں قلادہ ڈال کر اسے ساتھ لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا احرام نہیں کھولوں گا۔ اس روایت کا اصل موضوع ہدی، احرام اور نحر سے پہلے حلال نہ ہونا ہے۔ متن میں کسی عام بحث کو نہیں کھولا گیا، بلکہ خاص وجہ بیان ہوئی ہے: قربانی ساتھ تھی۔ اسی لیے یہ حدیث ہدی کے احکام، عمرہ کے بعد احرام، اور نحر سے پہلے حلال نہ ہونا جیسے سرچ الفاظ سے ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدی ساتھ ہو تو نبی صلى الله عليه وسلم نے قربانی تک احرام نہ کھولنے کی وجہ بیان فرمائی۔
  • دینی سوال ادب کے ساتھ پوچھا جا سکتا ہے۔
  • احرام کھولنے کا معاملہ حج کی حالت اور ہدی سے جڑا ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں