صحیح بخاری حدیث ۱۷۳ - پیاسے کتے کو پانی پلانے کی فضیلت
پیاسے کتے کو پانی پلانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رحم دلی کا ایک بہت دل کو چھو لینے والا واقعہ ہے۔ ایک شخص نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا ہے۔ اس نے اپنا موزہ لیا، اس میں پانی بھرا اور کتے کو پلانے لگا، یہاں تک کہ اسے خوب سیراب کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اللہ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ پیاسے کتے کو پانی پلانے کی حدیث، جانوروں پر رحم، اور رحم دلی کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے بہت اہم ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ضرورت مند جانور پر رحم کرنا بھی اللہ کے ہاں قدر والا عمل ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیاسے جانور کو پانی پلانا رحم دلی کا عمل ہے۔
- حدیث میں ایک شخص کے عمل کی اللہ کے ہاں قدر کا ذکر ہے۔
- ضرورت مند مخلوق کی مدد کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
