صحیح بخاری حدیث ۱۷۴ - مسجد میں کتوں کے آنے جانے کا ذکر
نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں مسجد میں کتوں کے آنے جانے کی روایت
صحیح بخاری : ۱۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۴
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۴ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے، مگر لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے اور اسی واقعے تک محدود رہنی چاہیے۔ اس کا موضوع مسجد، صفائی اور اس زمانے کے ایک مشاہدے سے متعلق ہے۔ مسجد میں کتے آنے کی حدیث، نبی کے زمانے کی مسجد، اور پانی نہ چھڑکنے کی روایت جیسے الفاظ اس کے لیے سرچ میں آ سکتے ہیں۔ اس روایت سے اتنا سمجھ آتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عملی صورت حال بیان کی، جس میں لوگوں کے عمل کا ذکر بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی ایک صورت حال بیان ہوئی ہے۔
- کتے مسجد میں آتے جاتے تھے، یہ بات روایت میں ذکر ہے۔
- لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے، یہی عمل بیان کیا گیا ہے۔
