صحیح بخاری حدیث ۱۷۳۳ - طواف زیارت
حائضہ عورت اور طواف زیارت: صفیہؓ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۷۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۳۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ ، فَحَاضَتْ صَفِيَّةُ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا حَائِضٌ ، قَالَ : حَابِسَتُنَا هِيَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ، قَالَ : اخْرُجُوا " , وَيُذْكَرُ عَنْ الْقَاسِمِ وَعُرْوَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَفَاضَتْ صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ .
عائشہ روایت:
ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ حج کے دوران دسویں تاریخ کو طواف زیارت کیا گیا۔ پھر ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بتایا گیا تو پہلے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ ہمیں روک دیں گی؟ پھر لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف زیارت کر لیا تھا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: چلے چلو۔ روایت کے آخر میں بھی ذکر ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے یوم نحر کو طواف زیارت کیا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع حائضہ عورت، طواف زیارت، اور حج کے سفر کا معاملہ ہے۔ متن سے یہی بات نکلتی ہے کہ جب طواف زیارت ہو چکا تھا تو قافلے کو رکنے کی ضرورت نہیں رہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صفیہؓ حائضہ ہوئیں، مگر طواف زیارت پہلے کر چکی تھیں۔
- طواف زیارت ہو جانے کی خبر پر سفر جاری رکھنے کا حکم ہوا۔
- حج کے مسئلے میں اصل حال معلوم کرنا ضروری ہے۔
