صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۱ - رمی کے بعد دعا کا طریقہ

رمی کے بعد دعا: پہلے دو جمروں پر کھڑے ہونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۵۱

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ ، فَيَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى ، ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيَسْتَهِلُ ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَيَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .

سالم روایت:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، پھر آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے اسی طرح دیر تک کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر جمرہ وسطیٰ کی رمی کرتے، پھر بائیں طرف بڑھتے اور ایک ہموار زمین پر قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے، یہاں بھی دیر تک کھڑے کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے رہتے، اس کے بعد والے نشیب سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے اس کے بعد آپ کھڑے نہ ہوتے بلکہ واپس چلے آتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رمی کے بعد دعا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر «الله أكبر» کہتے۔ پھر آگے بڑھ کر ہموار جگہ پر قبلہ رخ کھڑے ہوتے، دیر تک دعا کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ پھر جمرہ وسطیٰ کے ساتھ بھی یہی عمل کرتے۔ اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی بطن وادی سے کرتے، مگر وہاں کھڑے نہیں ہوتے بلکہ واپس چلے آتے۔ آخر میں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ اس حدیث میں رمی جمرات کا مکمل عملی انداز، تکبیر، قبلہ رخ دعا، ہاتھ اٹھانا، اور جمرہ عقبہ کے بعد نہ ٹھہرنا سب واضح طور پر آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پہلے جمرہ کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کا ذکر آیا ہے۔
  • جمرہ وسطیٰ کے بعد بھی دعا اور ہاتھ اٹھانے کا عمل بیان ہوا ہے۔
  • جمرہ عقبہ کے بعد کھڑے نہ ہونے کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں