سنن نسائی حدیث ۳۰۸۳ - رمی تک لبیک کی آواز
رمی جمرہ تک تلبیہ کہنے کی سنت
سنن نسائی : ۳۰۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۳
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ , وسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ , " أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
فضل (فضل بن عباس رضی اللہ عنہما) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا مشاہدہ بیان ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کا عمل براہ راست دیکھا۔ حدیث میں بتایا گیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ یہاں اصل بات تلبیہ کے وقت سے متعلق ہے۔ حاجی لبیک کہتے ہوئے اللہ کی اطاعت کا اعلان کرتا ہے، اور اس حدیث میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے رمی جمرہ تک جاری رکھا۔ رمی مکمل ہونے کے بعد دوسری روایت میں تلبیہ بند کرنے کا ذکر آتا ہے۔ اس حدیث سے حج کے عمل میں ترتیب، سنت کی پیروی اور جمرہ عقبہ کی اہمیت صاف طور پر سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل حج کے طریقے کو سمجھنے کی اصل بنیاد ہے۔
- جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ جاری رہا۔
- صحابہ کرامؓ نے حج کے اعمال کو غور سے نقل کیا۔
