سنن نسائی حدیث ۳۰۸۴ - جمرہ عقبہ اور تلبیہ
جمرہ عقبہ تک لبیک کہنے کا نبوی عمل
سنن نسائی : ۳۰۸۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۴
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، " أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
فضل بن عباس روایت:
´فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعے نبی صلى الله عليه وسلم کے حج کا ایک عمل بیان کرتی ہے۔ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سوار تھے، اس لیے ان کا بیان حج کے اس موقع کی قریب ترین گواہی ہے۔ روایت میں ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم برابر لبیک کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ اس سے حاجی کے لیے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تلبیہ صرف ایک عام ذکر نہیں، بلکہ حج کے مخصوص اعمال کے ساتھ جڑا ہوا عمل ہے۔ جمرہ عقبہ کی رمی ایک اہم مرحلہ ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے اس وقت تک تلبیہ جاری رکھا۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت میں اپنی پسند کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو دیکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تلبیہ حج کے خاص اعمال کے ساتھ وابستہ ہے۔
- جمرہ عقبہ کی رمی تک لبیک کہنا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
- حج میں ہر قدم سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔
