حج کے احکام و مناسک
سنن نسائی : ۲۶۲۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ وَاسْمُهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : فِي كُلِّ عَام ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهُ ثَلاثًا ، فَقَالَ : " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا ، ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّيْءِ ، فَخُذُوا بِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے“ ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ۱؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ“۔
سنن نسائی : ۲۶۲۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْد ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " , فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيّ : كُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، فَقَال : " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ثُمَّ إِذًا لَا تَسْمَعُونَ وَلَا تُطِيعُونَ وَلَكِنَّهُ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے“، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے“۔
سنن نسائی : ۲۶۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ ، قَال : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْن ؟ قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ " .
´ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو“ ۱؎۔
