رقبیٰ (یعنی زندگی سے مشروط ہبہ) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۷۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۷۳۶
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّقْبَى جَائِزَةٌ " .
´زید بن ثابت رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ لاگو ہو گا ۱؎۔
سنن نسائی : ۳۷۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۷۳۷
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ " الرُّقْبَى لِلَّذِي أُرْقِبَهَا " .
´زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کو اسی کا حق قرار دیا ہے جسے رقبیٰ کیا گیا ہے ۱؎۔
سنن نسائی : ۳۷۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۷۳۸
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ لَعَلَّهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رقبیٰ (مصلحتاً جائز) نہیں ہے (لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔
