زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۵۲۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۲۲۷
أَخْبَرَنَا ابْنُ السُّنِّيِّ قِرَاءَةً , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ لَفْظًا ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْمَرًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَالْخِتَانُ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں: مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا“۔
سنن نسائی : ۵۲۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۲۲۸
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوا اللِّحَى " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ“۔
سنن نسائی : ۵۲۲۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۲۲۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثَةً أَنْ يَأْتِيَهُمْ , ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : " لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ " , ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوا إِلَيَّ بَنِي أَخِي " , فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ ، فَقَالَ : " ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ " , فَأَمَرَ بِحَلْقِ رُءُوسِنَا . مُخْتَصَرٌ .
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آل جعفر کو یہ کہہ کر کہ آپ ان کے پاس آئیں گے تین روز تک (رونے اور غم منانے کی) اجازت دی ۱؎، پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”آج کے بعد میرے بھائی پر مت روؤ“، پھر فرمایا: ”میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ“۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے بہت چھوٹے تھے پھر آپ نے فرمایا: ”نائی کو بلاؤ“، پھر آپ نے ہمارے سر مونڈنے کا حکم دیا۔
