أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالِاسْتِنْشَاقُ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ " ، قَالَ مُصْعَبٌ : وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ : الْمَضْمَضَةَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں فطرت (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں): مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا“۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ ”کلی کرنا ہو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ : " عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ : السِّوَاكَ ، وَقَصَّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ , وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ ، وَالِاسْتِنْشَاقَ ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ " .
دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: " عَشْرَةٌ مِنَ السُّنَّةِ: السِّوَاكُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَالْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالْخِتَانُ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ " قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ»
دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں۔
أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب " . وقفه مالك .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن اور مونچھیں کاٹنا“۔ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ ، وَالْخِتَانُ " .
پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ناخن کترنا، مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ , وَأَعْفُوا اللِّحَى " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال : " احْلِقُوهُ كُلَّهُ , أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: ”یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔