زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰۴۳

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالِاسْتِنْشَاقُ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ " ، قَالَ مُصْعَبٌ : وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ : الْمَضْمَضَةَ .

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں فطرت ۲؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں): مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا“۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ ”کلی کرنا ہو“۔

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰۴۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ : " عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ : السِّوَاكَ ، وَقَصَّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ , وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ ، وَالِاسْتِنْشَاقَ ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ " .

´طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ` دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰۴۵

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: " عَشْرَةٌ مِنَ السُّنَّةِ: السِّوَاكُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَالْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالْخِتَانُ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ " قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ»

´طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ` دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ۱؎۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں