مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۸۸۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۸۸۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْجَرْتَ أَجِيرًا فَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب تم کسی مزدور سے مزدوری کراؤ تو اسے اس کی اجرت بتا دو۔
سنن نسائی : ۳۸۸۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۸۸۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّهُ : " كَرِهَ أَنْ يَسْتَأْجِرَ الرَّجُلَ حَتَّى يُعْلِمَهُ أَجْرَهُ " .
´حسن بصری سے روایت ہے کہ` وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی کسی آدمی سے اس کی اجرت بتائے بغیر مزدوری کرائے۔
سنن نسائی : ۳۸۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۸۹۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ : رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا عَلَى طَعَامِهِ ؟ قَالَ : " لَا حَتَّى تُعْلِمَهُ " .
´حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ` ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مزدور سے اس کے کھانے کے بدلے کام لے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں (درست نہیں) یہاں تک کہ وہ اسے بتا دے۔
