قربانی کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۴۳۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۳۶۶
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ " .
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے“ ۱؎۔
سنن نسائی : ۴۳۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۳۶۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَقْلِمْ مِنْ أَظْفَارِهِ ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي عَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " .
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نہ اپنے ناخن کترے اور نہ بال کٹوائے“۔
سنن نسائی : ۴۳۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۳۶۸
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلَا أَظْفَارِهِ " . فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ ، فَقَالَ : أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ ، وَالطِّيبَ .
´تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎۔
