سنن نسائی حدیث ۳۰۸۵ - رمی جمرات کا طریقہ

رمی جمرات کا سنت طریقہ اور دعا

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۵

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : بَلَغَنَا " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَنْحَرَ ، مَنْحَرَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا ، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو يُطِيلُ الْوُقُوفَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .

زہری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے۔زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رمی جمرات کا طریقہ تفصیل سے آیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم اس جمرے کو جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب تھا سات کنکریاں مارتے، اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوتے، ہاتھ اٹھاتے اور دیر تک دعا کرتے۔ اس کے بعد دوسرے جمرے کے پاس آتے، اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے۔ پھر بائیں جانب ہو کر بیت اللہ کی طرف منہ کرتے، ہاتھ اٹھاتے اور دعا کرتے۔ آخر میں جمرہ عقبہ کے پاس آتے، اسے سات کنکریاں مارتے، مگر وہاں دعا کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ اس روایت میں رمی، تکبیر، قبلہ رخ دعا اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرنے کی ترتیب صاف بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارنے کا ذکر آیا ہے۔
  • ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں آیا۔
  • پہلے دو جمرات کے بعد دعا کے لیے کھڑے ہونا بیان ہوا ہے۔
  • جمرہ عقبہ کے پاس دعا کے لیے نہ ٹھہرنے کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں