سنن نسائی حدیث ۳۰۸۶ - رمی کے بعد احرام
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد احرام کا حکم
سنن نسائی : ۳۰۸۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ ، قِيلَ : وَالطِّيبُ ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَقَدْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَضَمَّخُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ هُوَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے)۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد کی حالت بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب آدمی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سب چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، سوائے عورت کے۔ جب خوشبو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو مشک لگاتے ہوئے دیکھا، پھر سوال کے انداز میں فرمایا کہ کیا وہ خوشبو نہیں؟ اس روایت کا اصل موضوع رمی کے بعد احرام کی پابندیوں میں کمی ہے۔ یہاں خوشبو، مشک اور رمی جمرہ کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے اعمال میں ہر مرحلے کے بعد احکام بدلتے ہیں، اس لیے حاجی کو ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد بعض پابندیاں ختم ہونے کا ذکر ہے۔
- عورت کے معاملے کو اس روایت میں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
- خوشبو کے بارے میں ابن عباسؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے جواب دیا۔
