سنن نسائی حدیث ۳۰۸۲ - جمرہ عقبہ تک تلبیہ
جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۲
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ : " كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَلَمَّا رَمَى قَطَعَ التَّلْبِيَةَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج کے ایک خاص عمل کا ذکر ہے۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس لیے انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو بہت قریب سے دیکھا اور سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب رمی مکمل ہو گئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے تلبیہ کہنا بند کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی تک لبیک کہنا حج کے عمل میں اہم جگہ رکھتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت کے ہر عمل کا وقت اور طریقہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے سیکھا جائے، خاص طور پر حج میں رمی جمرہ، تلبیہ اور جمرہ عقبہ جیسے اعمال میں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے اعمال میں نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے۔
- تلبیہ جمرہ عقبہ کی رمی تک جاری رکھا گیا۔
- رمی مکمل ہونے کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے تلبیہ بند کر دیا۔
