سنن نسائی حدیث ۳۰۸۱ - رمی تک تلبیہ اور ہر کنکری پر تکبیر
جمرہ عقبہ تک تلبیہ اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر
سنن نسائی : ۳۰۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۱
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ " .
فضل بن عباس روایت:
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۸۱ کا خلاصہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم مسلسل لبیک کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رمی جمرہ، تلبیہ اور تکبیر ہے۔ روایت میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں: رمی تک تلبیہ جاری رہنا، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا۔ حج کے طریقے کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے سیکھنے والوں کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں عمل، ذکر اور تعداد تینوں کا واضح ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
- جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارنے کا ذکر ہے۔
- ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی گئی۔
- فضل رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے قریب رہ کر یہ عمل دیکھا۔
