سنن نسائی حدیث ۳۰۸۰ - ابن عباس کا علمی احتیاط

رمی کی تعداد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا احتیاط

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۰

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ , يَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ ؟ فَقَالَ : " مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ " .

ابومجلز روایت:

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۸۰ کا خلاصہ

ابومجلز کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جمار کے معاملے میں کنکریوں کے بارے میں پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔ اس حدیث کا اصل موضوع علمی احتیاط اور رمی کی کنکریوں کی تعداد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بڑے صحابی تھے، مگر جہاں انہیں یقین نہ تھا وہاں انہوں نے صاف کہہ دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ یہ انداز علم میں امانت سکھاتا ہے۔ رمی جمرہ کی تعداد کے بارے میں سوال اہم تھا، لیکن انہوں نے اندازے سے بات نہیں کی۔ حدیث کا سبق یہی ہے کہ دین کی بات میں یقین کے بغیر قطعی بات نہ کہی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عدم علم کا صاف اظہار کیا۔
  • دینی سوال میں اندازے سے جواب نہیں دینا چاہیے۔
  • رمی کی تعداد کے بارے میں علمی احتیاط دکھائی گئی۔
  • مجھے معلوم نہیں کہنا بھی علم کی امانت کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں