سنن نسائی حدیث ۳۰۷۹ - چھ یا سات کنکریوں پر نکیر نہیں
رمی میں چھ یا سات کنکریوں کے ذکر پر نکیر نہیں
سنن نسائی : ۳۰۷۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۷۹
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ : قَالَ مُجَاهِدٌ ، قَالَ سَعْدٌ : " رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضُنَا يَقُولُ : رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، وَبَعْضُنَا يَقُولُ : رَمَيْتُ بِسِتٍّ ، فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
سعد روایت:
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۷۹ کا خلاصہ
سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ حج سے واپس ہوئے۔ لوگوں میں سے کوئی کہتا تھا کہ میں نے سات کنکریاں ماریں، اور کوئی کہتا تھا کہ میں نے چھ کنکریاں ماریں، مگر ان میں سے کسی نے دوسرے پر نکیر نہیں کی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رمی کی کنکریوں کی تعداد اور صحابہ کا باہمی رویہ ہے۔ روایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ حکم کیا ہے، بلکہ یہ بیان ہے کہ اس موقع پر چھ اور سات کہنے والوں نے ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کیا۔ اس سے کم از کم اتنی بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان اس خاص واقعے میں سختی اور جھگڑے کا انداز نہیں تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کچھ صحابہ نے سات کنکریوں کا ذکر کیا اور کچھ نے چھ کا۔
- اس واقعے میں کسی نے دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
- حج کے معاملے میں صحابہ کا انداز نرم تھا۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
