صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۹ - ذی طویٰ میں قیام اور مکہ میں داخلہ
ذی طویٰ میں قیام کی حدیث: مکہ میں داخلے کا نبوی طریقہ
صحیح بخاری : ۱۷۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۶۹
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَقْبَلَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ دَخَلَ ، وَإِذَا نَفَرَ مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے اور جب صبح صادق ہوتی تو مکہ میں داخل ہوتے۔ اسی طرح مکہ سے واپسی میں بھی ذی طویٰ سے گزرتے اور وہیں رات گزارتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج اور مکہ کے سفر کا ادب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے، پھر صبح صادق کے بعد مکہ میں داخل ہوتے۔ واپسی کے وقت بھی وہ ذی طویٰ سے گزرتے، وہاں رات گزارتے اور صبح کرتے۔ حدیث میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ یہ عمل اس لیے ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس سے ہمیں مکہ میں داخل ہونے کا نبوی طریقہ، ذی طویٰ میں قیام، اور سفر حج و عمرہ میں سنت کی پیروی کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو یاد رکھتے اور اپنے سفر میں اسی کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ آتے وقت ذی طویٰ میں رات گزارنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو یاد رکھتے تھے۔
- مکہ میں داخلے کے لیے صبح کا وقت اس روایت میں خاص طور پر بیان ہوا ہے۔
- واپسی کے سفر میں بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما ذی طویٰ سے گزرتے اور وہاں قیام کرتے تھے۔
