صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۸ - محصب میں قیام اور نماز کا ذکر

محصب کی حدیث: حج کے سفر میں قیام، نماز اور مختصر آرام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۶۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : سُئِلَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ الْمُحَصَّبِ ، فَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " نَزَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعُمَرُ ، وَابْنُ عُمَرَ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُصَلِّي بِهَا يَعْنِي الْمُحَصَّبَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ , أَحْسِبُهُ قَالَ : وَالْمَغْرِبَ ، قَالَ خَالِدٌ : لَا أَشُكُّ فِي الْعِشَاءِ وَيَهْجَعُ هَجْعَةً " وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

نافع روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے محصب میں قیام فرمایا تھا۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے مغرب (پڑھنے کا بھی) ذکر کیا، خالد نے بیان کیا کہ عشاء میں مجھے کوئی شک نہیں۔ اس کے پڑھنے کا ذکر ضرور کیا پھر تھوڑی دیر کے لیے وہاں سو رہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی مذکور ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حج کے سفر میں محصب میں قیام ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے محصب میں قیام فرمایا۔ اسی وجہ سے یہ محصب کی حدیث حج کی احادیث میں خاص طور پر پڑھی جاتی ہے۔ نافع رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں ظہر اور عصر کی نماز پڑھتے تھے۔ مغرب کے بارے میں راوی نے خیال ظاہر کیا، جبکہ عشاء کے ذکر میں خالد کو شک نہیں تھا۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں تھوڑی دیر آرام بھی کرتے تھے، اور اس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس روایت میں ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت راوی جہاں یقین رکھتا ہے وہاں یقین کے ساتھ بات کہتا ہے، اور جہاں شک ہو وہاں صاف بتا دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا محصب میں قیام اس روایت میں صاف ذکر ہوا ہے۔
  • عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے، اور عشاء کے ذکر پر راوی کو شک نہیں تھا۔
  • روایت میں مغرب کے ذکر کو یقینی انداز میں نہیں کہا گیا، اس لیے حدیث بیان کرتے وقت احتیاط اہم ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہاں مختصر آرام کرنا بھی اسی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں