صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۶ - محصب میں قیام حج کی عبادت نہیں
محصب کی حدیث: حج میں قیامِ محصب کا اصل حکم
صحیح بخاری : ۱۷۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۶۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابن عباس روایت:
محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے، یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج اور محصب میں قیام ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صاف بتایا کہ محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں۔ یعنی اسے حج کے لازمی اعمال میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق یہ صرف وہ جگہ تھی جہاں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قیام فرمایا تھا۔ اس سے بات سمجھ آتی ہے کہ حج کے اعمال اور سفر کے دوران کسی مقام پر ٹھہرنے میں فرق ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں نبی صلى الله عليه وسلم رکے ہوں، لازماً حج کا مستقل عمل نہیں بن جاتی، جب تک حدیث میں اسے عبادت یا حج کا حصہ نہ کہا گیا ہو۔ محصب کی حدیث، قیامِ محصب، حج کی عبادت اور مناسک حج جیسے الفاظ اسی بات کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ اس روایت میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ دین میں کسی عمل کی حیثیت وہی رکھی جائے جو حدیث کے متن سے ثابت ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محصب میں اترنا اس حدیث کے مطابق حج کی عبادت نہیں ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا کسی جگہ قیام کرنا ہر صورت میں حج کا لازمی عمل نہیں بنتا۔
- حج کے اعمال سمجھتے وقت حدیث کے اصل الفاظ کو بنیاد بنانا چاہیے۔
- عبادت اور سفر کے عام قیام میں فرق رکھا جانا چاہیے۔
