صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۵ - محصب اور ابطح میں قیام کی حکمت

محصب اور ابطح کی حدیث: حج کے سفر میں آسانی کی سنت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " إِنَّمَا كَانَ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ يَعْنِي بِالْأَبْطَحِ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے کوچ کر کے یہاں محصب میں اس لیے اترے تھے تاکہ آسانی کے ساتھ مدینہ کو نکل سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ابطح میں اترنے سے تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۶۵ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کے سفر سے متعلق ایک سادہ مگر اہم بات سمجھاتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم منیٰ سے کوچ کے بعد محصب، یعنی ابطح، میں اس لیے اترے تھے کہ وہاں سے مدینہ کی طرف نکلنا آسان ہو جائے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ سفر میں سہولت، ترتیب اور آسان راستہ اختیار کرنا درست ہے۔ یہاں محصب میں قیام کو کسی نئے حکم کے طور پر بیان نہیں کیا گیا، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس کی وجہ روانگی میں آسانی تھی۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل بات یہی سامنے رکھنی چاہیے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حج کے بعد واپسی کے سفر میں ایسا مقام اختیار کیا جہاں سے نکلنا زیادہ سہل تھا۔ محصب کی حدیث، ابطح کی حدیث، حج سے واپسی، منیٰ سے روانگی اور سفر میں آسانی جیسے موضوعات اسی روایت سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں ایسا مقام اختیار کیا جا سکتا ہے جہاں سے روانگی آسان ہو۔
  • منیٰ سے کوچ کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا محصب/ابطح میں اترنا آسانی کے لیے تھا۔
  • حدیث کے متن میں اس قیام کی وجہ سہولت بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے غیر ضروری باتیں نہیں جوڑنی چاہییں۔
  • حج کے سفر میں نظم اور آسان راستہ اختیار کرنا ایک سمجھدارانہ عمل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں