صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۳ - عمرہ اور حج مبرور کی فضیلت

عمرہ کی فضیلت اور حج مبرور کا اجر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۷۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کی فضیلت اور حج مبرور کا بڑا اجر بیان فرمایا ہے۔ حدیث کے مطابق ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ ایک پاکیزہ عبادت ہے جو بندے کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اسی طرح حج مبرور کی جزا کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حج اور عمرہ صرف سفر یا رسم نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور عبادت ہیں۔ جو شخص عمرہ کرتا ہے، اسے اپنے گناہوں پر ندامت، اصلاح اور اللہ کی طرف واپسی کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ حج مبرور کا مطلب عام طور پر وہ حج سمجھا جاتا ہے جو درست طریقے سے، اخلاص کے ساتھ اور نافرمانی سے بچتے ہوئے ادا کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے۔
  • حج مبرور کی جزا حدیث کے الفاظ کے مطابق جنت ہے۔
  • عمرہ اور حج بندے کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔
  • حج و عمرہ کو صرف سفر نہیں، عبادت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں