صحیح بخاری حدیث ۱۷۸ - مذی آنے پر وضو کا حکم

مذی آنے پر وضو کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الْثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : فِيهِ الْوُضُوءُ " ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ .

علی روایت:

میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلان مذی کی شکایت تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا فرض ہے۔ اس روایت کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی حالت بیان کی کہ انہیں مذی کی شکایت تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سوال کرتے ہوئے شرم آئی۔ اس لیے انہوں نے مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو ہے۔ اس روایت میں شرم، سوال اور طہارت تینوں باتیں سامنے آتی ہیں، مگر حکم کے لحاظ سے اصل بات یہ ہے کہ مذی آنے پر وضو کیا جائے۔ مذی کی حدیث، مذی آنے پر وضو، اور وضو کب فرض ہوتا ہے جیسے سرچ الفاظ اس روایت سے متعلق ہیں۔ حدیث یہ بھی دکھاتی ہے کہ دینی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے مناسب طریقے سے سوال کیا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مذی کے بارے میں حدیث میں وضو کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • دینی مسئلہ پوچھنے میں شرم ہو تو کسی دوسرے کے ذریعے سوال کیا جا سکتا ہے۔
  • طہارت کے مسائل کو واضح طور پر معلوم کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں