صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۳ - محرم کی شکار میں مدد کا مسئلہ
محرم شکار میں مدد نہ کرے: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۸۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۲۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى ثَلَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ ، فَقَالُوا : لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ إِنَّا مُحْرِمُونَ ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ ، فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : كُلُوا ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَأْكُلُوا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَمَامَنَا ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كُلُوهُ حَلَالٌ " ، قَالَ لَنَا عَمْرٌو : اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ ، وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا .
ابوقتادہ روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے تین منزل دور مقام قاحہ میں تھے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں تھے، بعض تو ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم۔میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے ہیں، میں نے جو نظر اٹھائی تو ایک گورخر سامنے تھا، ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا کوڑا گر گیا، (اور اپنے ساتھیوں سے اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے کہا)، لیکن ساتھیوں نے کہا کہ ہم تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محرم ہیں) اس لیے میں نے وہ خود اٹھایا اس کے بعد میں اس گورخر کے نزدیک ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اسے شکار کیا، پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا، بعض نے تو یہ کہا کہ (ہمیں بھی) کھا لینا چاہئے لیکن بعض نے کہا کہ نہیں کھانا چاہیے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔آپ ہم سے آگے تھے، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے بتایا کہ کھا لو یہ حلال ہے۔ ہم سے عمرو بن دینار نے کہا کہ صالح بن کیسان کی خدمت میں حاضر ہو کر اس حدیث اور اس کے علاوہ کے متعلق پوچھ سکتے ہو اور وہ ہمارے پاس یہاں آئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حالت احرام میں شکار کے بارے میں ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھی محرم تھے اور کچھ غیر محرم۔ جب گورخر دکھائی دیا تو ساتھیوں نے اشاروں میں اسے دیکھا، مگر جب ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کوڑا اٹھانے یا مدد کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم محرم ہیں، ہم تمہاری مدد نہیں کر سکتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود کوڑا اٹھایا، خود شکار کیا، پھر اسے ساتھیوں کے پاس لائے۔ بعض نے کھانے کو کہا اور بعض نے احتیاط کرتے ہوئے منع کیا۔ آخر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ، یہ حلال ہے۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ صحابہ نے احرام کی حالت میں شکار کے معاملے میں خود سے فیصلہ کرنے کے بجائے احتیاط کی، پھر نبی صلى الله عليه وسلم سے مسئلہ پوچھ کر اطمینان حاصل کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم شخص شکار میں مدد دینے سے بچے، حتیٰ کہ معمولی مدد میں بھی احتیاط کرے۔
- اختلاف ہو جائے تو بات کو اہل علم یا نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کی طرف لوٹانا چاہیے۔
- اس واقعے میں غیر محرم کے کیے ہوئے شکار کو نبی صلى الله عليه وسلم نے حلال فرمایا۔
- صحابہ دینی حدود کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرتے تھے۔
