صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۱ - احرام میں جوتے اور تہبند نہ ملنے کا حکم

احرام کا لباس: جوتے نہ ہوں تو موزے، تہبند نہ ہو تو پاجامہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۴۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ : " مَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ لِلْمُحْرِمِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا تھا کہ جس کے پاس احرام میں جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن لے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع احرام کا لباس ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے لیے ایک آسان حکم بتایا کہ اگر کسی کے پاس احرام کی حالت میں جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، اور اگر تہبند نہ ہو تو پاجامہ پہن لے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرہ میں اصل حکم تو احرام کی پابندی ہے، مگر جب ضروری چیز میسر نہ ہو تو شریعت آسانی دیتی ہے۔ یہاں بات خاص طور پر اس شخص کی ہے جسے جوتے یا تہبند نہ ملیں۔ اس لیے حدیث کو سمجھتے ہوئے یہی دائرہ سامنے رکھنا چاہیے۔ احرام میں موزے پہننے کی حدیث اور احرام میں پاجامہ پہننے کا حکم اسی روایت کا مرکزی سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام میں اصل لباس کی پابندی ہے، مگر ضرورت کے وقت آسانی دی گئی ہے۔
  • جوتے نہ ملیں تو محرم موزے پہن سکتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
  • تہبند نہ ملے تو پاجامہ پہننے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
  • عرفات کے خطبے میں حج کے عملی مسائل صاف اور آسان انداز میں سمجھائے گئے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں