صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۵ - مدینہ کے لیے دوہری برکت کی دعا

مدینہ کی برکت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۸۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ " ، تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يُونُسَ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے اللہ! جتنی مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دگنی برکت کر۔ جریر کے ساتھ اس روایت کی متابعت عثمان بن عمر نے یونس کے واسطہ کے ساتھ کی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع مدینہ کی برکت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مدینہ میں مکہ کے مقابلے میں دگنی برکت عطا فرما۔ متن مختصر ہے، مگر اس میں مدینہ کی فضیلت بہت صاف انداز میں آتی ہے۔ یہاں ہمیں دعا کا ایک خوبصورت انداز بھی ملتا ہے کہ خیر اور برکت اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے۔ حدیث میں صرف مدینہ کے لیے برکت کی دعا ذکر ہوئی ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی ایسی بات شامل نہیں کرنی چاہیے جو متن میں نہیں۔ آسان الفاظ میں یہ روایت بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ سے خاص تعلق تھا اور آپ نے اس شہر کے لیے خیر، کشادگی اور برکت کی دعا فرمائی۔ مدینہ کی برکت کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • برکت اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جاتی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لیے خاص طور پر برکت کی دعا فرمائی۔
  • مدینہ کی فضیلت اس دعا سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔
  • دعا میں خیر مانگنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں