صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۸ - روضہ جنت کے باغوں میں سے ہے
روضہ رسول کی فضیلت: جنت کے باغوں میں سے ایک باغ
صحیح بخاری : ۱۸۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۸۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (والی جگہ) جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض (کوثر) پر ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع روضہ رسول کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر معنی بہت عظیم ہیں۔ اس میں مسجد نبوی کے ایک خاص حصے کی فضیلت بیان ہوئی ہے، جسے عام طور پر ریاض الجنہ یا روضہ کہا جاتا ہے۔ ہمیں اس روایت سے یہی بات لینی چاہیے جو متن میں ہے: اس جگہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے باغوں میں سے فرمایا۔ اسی طرح منبر کا حوض کے ساتھ تعلق بھی اسی حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ یہ حدیث محبت، ادب، اور مسجد نبوی کی عظمت کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیان جگہ کی خاص فضیلت ہے۔
- حدیث میں اس جگہ کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ فرمایا گیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر حوض کے ساتھ متعلق بتایا گیا ہے۔
- مسجد نبوی کے آداب اور فضیلت کو دل میں جگہ دینی چاہیے۔
