صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۷ - مسجد تک قدموں کا ثواب

مسجد تک چلنے کے قدم اور بنو سلمہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۸۷

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ ، وَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ، فَأَقَامُوا " .

انس روایت:

بنو سلمہ نے چاہا کہ` اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کر لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنو سلمہ نے (اپنی اصلی اقامت گاہ میں) رہائش باقی رکھی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع مسجد تک چلنے کے قدموں کا اجر اور مدینہ کی آبادی ہے۔ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے گھروں کو چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ کا کوئی حصہ خالی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو سلمہ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ اس کے بعد انہوں نے اپنی جگہ رہائش باقی رکھی۔ حدیث میں صاف بتایا گیا ہے کہ مسجد کی طرف چلنے والے قدم بھی قابل قدر ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے مختلف حصوں کے آباد رہنے کو بھی پسند فرماتے تھے۔ یہ روایت عبادت، نیت، اور روزمرہ مشقت کے اجر کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد کی طرف چلنے والے قدموں کا ثواب امید کیا جا سکتا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے کسی حصے کے خالی ہونے کو پسند نہ فرمایا۔
  • عبادت کے لیے اٹھائی گئی مشقت ضائع نہیں ہوتی۔
  • بنو سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے بعد اپنی جگہ رہائش رکھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں