صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۱ - شب قدر اور رمضان کے روزوں کی فضیلت
شب قدر کی عبادت اور رمضان کے روزے کی فضیلت
صحیح بخاری : ۱۹۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۰۱
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شب قدر کی عبادت اور رمضان کے روزے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لیے کھڑا ہو، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور اجر کی امید کے ساتھ رکھے، اسے بھی پچھلے گناہوں کی معافی کی بشارت دی گئی ہے۔ یہاں اصل بات صرف عمل نہیں، بلکہ ایمان اور نیت بھی ہے۔ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے ثواب کی امید کے ساتھ رمضان گزارنے کا نام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شب قدر کی عبادت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ کرنی چاہیے۔
- رمضان کے روزے اللہ سے اجر کی امید کے ساتھ رکھے جائیں۔
- حدیث میں پچھلے گناہوں کی معافی کی بڑی خوشخبری دی گئی ہے۔
- نیت اور ایمان عبادت کو زیادہ معنی خیز بناتے ہیں۔
