صحیح بخاری حدیث ۱۹۲۰ - سحری کے بعد نماز فجر کی جلدی
سحری کے بعد فجر کی نماز پانے کی فکر
صحیح بخاری : ۱۹۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ السُّجُودَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سہل بن سعد روایت:
میں سحری اپنے گھر کھاتا پھر جلدی کرتا تاکہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سحری کے بعد نماز فجر کی فکر کا ذکر ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھاتے، پھر جلدی کرتے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پا لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری صبح کے قریب ہوتی تھی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سحری کے بعد نماز کے لیے جلدی کرتے تھے۔ حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے: سحری کھانا اپنی جگہ اہم ہے، مگر فجر کی نماز کی تیاری بھی ساتھ ہونی چاہیے۔ روزے کا آغاز صرف کھانا بند کرنے سے نہیں، بلکہ نماز اور عبادت کے ساتھ دن شروع کرنے سے خوبصورت بنتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سحری کے بعد فجر کی نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- صحابہ کرام سحری کے بعد نماز کے لیے جلدی کرتے تھے۔
- سحری صبح کے قریب بھی کی جا سکتی ہے۔
- روزے کا دن نماز کے ساتھ شروع کرنا بہتر عمل ہے۔
