صحیح بخاری حدیث ۱۹۲۹ - روزے میں قربت اور طہارت
روزے، حیض اور ازدواجی قربت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۲۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : " بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ ، إِذْ حِضْتُ ، فَانْسَلَلْتُ ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ، أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " .
ام سلمہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں (لیٹی ہوئی) تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی چادر میں چلی گئی اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل (جنابت) کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں تھیں کہ انہیں حیض آ گیا، تو وہ خاموشی سے نکلیں اور حیض کا کپڑا پہن لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا حیض آ گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، پھر وہ اسی چادر میں واپس آ گئیں۔ اسی روایت میں یہ بھی آیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے، اور آپ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے تھے۔ اس حدیث میں طہارت، حیض، ازدواجی قربت اور روزے میں بوسہ کے الفاظ ایک ساتھ آتے ہیں، مگر ہر بات کو حدیث کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض آ جانے پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی سے حال پوچھا۔
- روایت میں ایک برتن سے غسل جنابت کا ذکر آیا ہے۔
- روزے کی حالت میں بوسہ کا ذکر بھی اسی روایت میں موجود ہے۔
