صحیح بخاری حدیث ۱۹۶ - پیالے میں وضو اور کلی
پیالے میں وضو: ہاتھ، چہرہ اور کلی کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا۔ پھر آپ نے اسی میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا، اور اسی پیالے میں کلی کی۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو صاف الفاظ میں آئی ہے۔ یہ حدیث پیالے میں پانی، ہاتھ اور چہرہ دھونے، اور کلی کرنے کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں وضو کے بچے پانی یا برکت کے دوسرے واقعات کی طرح ایک عملی صورت دکھائی دیتی ہے، مگر یہاں زیادہ تفصیل نہیں دی گئی۔ سادہ الفاظ میں یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خاص عمل کو محفوظ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے پیالے میں ہاتھ اور چہرہ دھویا۔
- اسی پیالے میں کلی کرنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- مختصر روایت سے صرف وہی بات لی جائے جو متن میں موجود ہو۔
