صحیح بخاری حدیث ۱۶۲ - وضو سے پہلے ہاتھ دھونے کی احتیاط

نیند کے بعد وضو سے پہلے ہاتھ دھونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی دے پھر (اسے) صاف کرے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ بے جوڑ عدد (یعنی ایک یا تین) سے استنجاء کرے اور جب تم میں سے کوئی سو کر اٹھے، تو وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے دھو لے۔ کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں وضو اور صفائی کے چند اہم آداب بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالا جائے، پھر اسے صاف کیا جائے۔ اگر کوئی پتھروں سے استنجاء کرے تو بے جوڑ عدد اختیار کرے۔ اسی طرح جب کوئی نیند سے اٹھے تو وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنا ہاتھ دھو لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ وضو سے پہلے ہاتھ دھونا، ناک میں پانی ڈالنا، اور استنجاء کا طاق عدد یہ سب پاکیزگی کے عملی اصول ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ وضو میں احتیاط اور صفائی دونوں کا خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیند سے اٹھ کر وضو کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونا چاہیے۔
  • وضو میں ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرنا بیان ہوا ہے۔
  • استنجاء میں طاق عدد اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں