صحیح بخاری حدیث ۱۶۳ - وضو میں ایڑیوں کو اچھی طرح دھونا

وضو میں ایڑیاں دھونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳

حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .

عبداللہ بن عمرو روایت:

ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہنچا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور (اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ” ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے “ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں وضو کو پورا کرنے کی بہت واضح تنبیہ ہے۔ سفر کے دوران عصر کا وقت قریب تھا، صحابہ کرام جلدی میں وضو کرنے لگے اور پاؤں کو اچھی طرح دھونے کے بجائے مسح کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا کہ ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، اور یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو میں پاؤں دھونا، خاص طور پر ایڑیاں اچھی طرح دھونا، بہت اہم ہے۔ وضو میں ایڑیاں خشک رہ جانا معمولی بات نہیں سمجھی گئی۔ یہ حدیث وضو مکمل کرنے، نماز سے پہلے پاکیزگی اور جلدی میں عبادت کے آداب کو سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو میں پاؤں کو اچھی طرح دھونا ضروری سمجھایا گیا ہے۔
  • ایڑیاں خشک رہ جانے پر سخت تنبیہ وارد ہوئی ہے۔
  • جلدی میں بھی وضو کے لازم حصوں کو ادھورا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں