صحیح بخاری حدیث ۱۶۵ - وضو اچھی طرح مکمل کرنے کی تاکید

وضو اچھی طرح کرو؛ ایڑیوں کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۵

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ ، قَالَ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .

ابوہریرہ روایت:

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا` وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۵ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ وضو اچھی طرح کرو، کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خشک ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ یہ حدیث وضو کی تکمیل پر خاص توجہ دلاتی ہے۔ کبھی انسان جلدی میں پاؤں کے پچھلے حصے یا ایڑیوں کو درست نہیں دھوتا، مگر اس روایت میں اسے بہت سنجیدہ معاملہ بتایا گیا ہے۔ وضو میں ایڑیاں دھونا، وضو مکمل کرنا اور نماز سے پہلے صفائی کا خیال رکھنا اس حدیث کے اہم نکات ہیں۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام وضو میں کمی دیکھتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلاتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو کو اچھی طرح مکمل کرنا چاہیے۔
  • ایڑیوں کو خشک چھوڑنا حدیث میں سخت ناپسندیدہ بتایا گیا ہے۔
  • دینی بات دیکھ کر نرمی سے یاد دہانی کرانا صحابہ کا طریقہ تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں