صحیح بخاری حدیث ۱۶۱ - وضو میں ناک صاف کرنے کا حکم

وضو میں ناک صاف کرنے کی حدیث اور طاق عدد سے استنجاء

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۱

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد (یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی) سے کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع وضو کی صفائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وضو کرے وہ ناک صاف کرے، یعنی ناک میں پانی لے کر اسے باہر نکالے۔ اسی طرح جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے وہ طاق عدد اختیار کرے، جیسے ایک، تین یا پانچ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو صرف ظاہری دھلائی کا نام نہیں، بلکہ صفائی کے ہر حصے کو درست طریقے سے ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ وضو کی حدیث، ناک صاف کرنے کی حدیث، اور استنجاء کا طریقہ جیسے موضوعات میں یہ روایت بہت اہم ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ عبادت سے پہلے پاکیزگی میں ترتیب اور احتیاط پسندیدہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو کرتے وقت ناک صاف کرنا حدیث میں واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
  • پتھروں سے استنجاء کیا جائے تو طاق عدد اختیار کیا جائے۔
  • پاکیزگی میں چھوٹی باتوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں