صحیح بخاری حدیث ۱۹۷۷ - ہمیشہ روزہ رکھنے سے ممانعت
ہمیشہ روزہ رکھنے کا حکم: صوم دہر سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۷۷
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ عَطَاءً ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي وَلَا تَنَامُ ، " فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ ، وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا " ، قَالَ : إِنِّي لَأَقْوَى لِذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : وَكَيْفَ ؟ قَالَ : كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى ، قَالَ : مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ عَطَاءٌ : لَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ مَرَّتَيْنِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں۔ اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور (رات بھر) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں۔عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں (اس حدیث میں) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا! (البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں، دو مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۷۷ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ مسلسل روزے رکھتے اور ساری رات نماز پڑھتے ہیں۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، رات کو نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی۔ پھر آپ نے آنکھ، نفس اور اہل خانہ کے حق کا ذکر فرمایا۔ جب انہوں نے زیادہ طاقت کا ذکر کیا تو آپ نے صوم داؤد کا طریقہ بتایا، یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ عبادت میں شدت کے ساتھ توازن بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلسل روزہ اور رات بھر نماز کو مستقل معمول بنانا درست نہیں بتایا گیا۔
- آنکھ، نفس اور اہل خانہ کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
- صوم داؤد ایک متوازن نفلی روزہ ہے۔
- ہمیشہ روزہ رکھنے پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
