صحیح بخاری حدیث ۱۹۸۰ - صوم داؤد سے بڑھ کر روزہ نہیں
صوم داؤد کی حد: ایک دن روزہ اور ایک دن افطار
صحیح بخاری : ۱۹۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۸۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ : أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : خَمْسًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : سَبْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : تِسْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، شَطْرَ الدَّهَرِ ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " .
ابوالملیح روایت:
میں آپ کے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی۔ (کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا، اچھا پانچ دن کے روزے (رکھ لے) میں نے عرض کی، یا رسول اللہ کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو چھ دن، میں نے عرض کی یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھائیے، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اچھا نو دن، میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کچھ اور فرمایا، اچھا گیارہ دن۔آخر آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ (شریعت میں) جائز نہیں۔ یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے روزوں کے بارے میں خبر ہوئی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے پہلے فرمایا کہ کیا ہر مہینے تین دن کے روزے کافی نہیں؟ انہوں نے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو پانچ، پھر سات، پھر نو، پھر گیارہ دن کا ذکر ہوا۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں، یعنی آدھا زمانہ: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نفل روزوں میں بھی ایک حد ہے۔ شوق اچھا ہے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حد سے آگے بڑھنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہر مہینے تین روزوں کی طرف رہنمائی دی۔
- زیادہ روزوں کی خواہش پر مختلف درجے بیان ہوئے۔
- صوم داؤد کو آخری حد کے طور پر بیان کیا گیا۔
- نفل روزوں میں بھی نبوی حد بندی کو قبول کرنا چاہیے۔
