صحیح بخاری حدیث ۲۰۰۷ - عاشوراء کے دن اعلانِ روزہ

عاشوراء کے دن اعلان: جو نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۰۷

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ ، أَنَّ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ ، فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ " .

سلمہ بن اکوع روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسلم کے ایک شخص کو لوگوں میں اس بات کے اعلان کا حکم دیا تھا کہ جو کھا چکا ہو وہ دن کے باقی حصے میں بھی کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہ کھایا ہو اسے روزہ رکھ لینا چاہئے کیونکہ یہ عاشوراء کا دن ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عاشوراء کے دن کے بارے میں ایک عملی اعلان بیان ہوا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کرے۔ اعلان یہ تھا کہ جس نے کھا لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ کھانے پینے سے رکا رہے، اور جس نے ابھی تک نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھ لے، کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر عاشوراء کے روزے کا اہتمام لوگوں تک پہنچایا گیا۔ یہاں 10 محرم کا روزہ صرف ذاتی عمل نہیں رہا، بلکہ لوگوں کو باقاعدہ بتایا گیا کہ اس دن کا لحاظ کریں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عاشوراء کے دن لوگوں میں اعلان کرایا۔
  • جس نے نہ کھایا تھا اسے روزہ رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
  • جس نے کھا لیا تھا اسے باقی دن رکنے کا کہا گیا۔
  • دینی حکم لوگوں تک صاف انداز میں پہنچانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں