صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۴ - قبضہ سے پہلے غلہ بیچنے کی ممانعت
قبضہ سے پہلے فروخت کی حدیث: غلہ بیچنے کا صاف اصول
صحیح بخاری : ۲۱۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۴
قَالَ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الطَّعَامُ إِذَا اشْتَرَاهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری طرح اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر تجارت کے ایک اہم اصول کو صاف بیان کرتی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے غلہ کو پوری طرح قبضہ میں لینے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ خریدار جب تک چیز کو مکمل طور پر اپنے اختیار میں نہ لے لے، اس کا آگے سودا نہ کرے۔ اس سے معاملہ زیادہ واضح رہتا ہے، جھگڑے کا امکان کم ہوتا ہے، اور خرید و فروخت میں سنجیدگی آتی ہے۔ خاص طور پر غلہ جیسی چیز میں مقدار، جگہ اور وصولی سب اہم ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، لیکن صاف ہدایت موجود ہے کہ پہلے قبضہ مکمل ہو، پھر فروخت کی بات کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خریدی ہوئی چیز پر مکمل قبضہ سے پہلے فروخت نہ کی جائے۔
- تجارت میں جلد بازی کے بجائے معاملے کی تکمیل ضروری ہے۔
- غلہ کی خرید و فروخت میں وصولی اور قبضہ صاف ہونا چاہیے۔
