صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۳ - غلہ خرید کر فوراً بیچنے کی ممانعت

غلہ خریدنے اور بیچنے کی حدیث: قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۳

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ : أَنَّهُمْ كَانُوا يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ عَلَيْهِمْ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَبِيعُوهُ ، حَيْثُ اشْتَرَوْهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ ، حَيْثُ يُبَاعُ الطَّعَامُ .

ابن عمر روایت:

صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ قافلوں سے خریدتے تھے تو آپ ان کے پاس کوئی آدمی بھیج کر وہیں پر جہاں انہوں نے غلہ خریدا ہوتا۔ اس غلے کو بیچنے سے منع فرما دیتے اور اسے وہاں سے لا کر بیچنے کا حکم ہوتا جہاں عام طور پر غلہ بکتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع تجارت میں احتیاط اور غلہ کی خرید و فروخت کا اصول ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں قافلوں سے غلہ خریدتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم ان کے پاس آدمی بھیجتے جو انہیں اسی جگہ غلہ بیچنے سے منع کرتا جہاں انہوں نے خریدا تھا۔ حکم یہ تھا کہ پہلے اسے وہاں لے جایا جائے جہاں عام طور پر غلہ فروخت ہوتا ہے، پھر بیچا جائے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صرف سودا طے ہو جانا کافی نہیں، بلکہ مال کو مناسب جگہ منتقل کرنا اور معاملے کو واضح بنانا بھی اہم ہے۔ غلہ کی خرید و فروخت میں قبضہ، نقل و حمل اور بازار کے معمول کا خیال رکھنا اس حدیث کی سادہ مگر بہت عملی تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلہ خرید کر اسی جگہ فوراً بیچنے سے روکا گیا۔
  • خریدی ہوئی چیز کو مناسب جگہ منتقل کرنا معاملے کو صاف کرتا ہے۔
  • بازار کے معروف طریقے کا لحاظ تجارت میں اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں